ٹی وی پر علماء کرام کا آنا مثبت ومنفی پہلو

 

از: مولانا سعید احمد جلال پوری

 

                جیسا کہ سب کومعلوم ہے کہ آج کل میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر یہودی لابی، ان کے وفاداروں اور نمک خواروں کا قبضہ ہے، وہ اسلام اور احکام اسلام کومسخ کرکے پیش کرتے ہیں، وہ مسلمانوں کو تشدد پسند، دہشت گرد اوراسلام کو ناقابل عمل دین ومذہب باور کراتے ہیں، اسی طرح وہ روز مرہ مسائل اور عقائد ونظریات پرجو مکالمے دکھاتے ہیں، اس میں بھی باطل اور باطل پرستوں کے عقائد و نظریات کو حق و صواب اوراہلِ حق کے موقف کو اس طرح بے وزن کرکے پیش کرتے ہیں کہ سیدھا سادا قاری حق و سچ اور باطل وجھوٹ میں امتیاز نہیں کرپاتا، وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے؛ بلکہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ اوراہلِ حق سے وابستہ افراد بھی اپنے عقائد ونظریات کے سلسلہ میں شکوک و شبہات کا شکارہوجاتے ہیں، اور یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ بتلایا اور پڑھایا گیا تھا، شاید حقائق اس سے مختلف ہیں، ایسی پریشان کن صورت حال سے بے چین ہوکر، دین کا درد رکھنے والے مسلمانوں کی خواہش اور شدید تقاضا ہے کہ اہلِ حق علماء کو ان ٹی وی پروگراموں میںآ نا چاہئے اور اس فتنہ کامقابلہ اس میدان میں اترکر کرنا چاہئے اور عوام کواصل حقائق سے آگاہ کرنا چاہئے،اور ٹی وی، سی ڈیز اور کیبل چینلز کے جواز کا فتویٰ دے دینا چاہئے، چنانچہ ایسے ہی ملی درد رکھنے والے بعض علماء سے بھی سنا گیا ہے کہ اب تو ٹی وی، سی ڈیز اور کیبل چینلز کی اس دلدل اور کیچڑ میں گھس کر اس میں غرق ہونے والے مسلمانوں کو نکالنا چاہئے، اگراس سے تغافل برتا گیا تو وہ دن دور نہیں جب اسلام اور اسلامی اقدار کا تشخص نابود ہوجائے۔

                ان ہمدردانِ قوم ووطن اور دین وملت کا اصرار ہے کہ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کوئی ایسا اسلامی چینل کھولا جائے جس کو دیکھ کر مسلمان اپنا دین، مذہب اورایمان وعقیدہ محفوظ رکھ سکیں، اوراس کے ذریعے مادر پدر آزاد اور لادین ٹی وی چینلوں کے زہر اگلتے پروگراموں سے نئی نسل کو محفوظ کیا جاسکے اور دین و مذہب، ایمان وعقیدہ اور علم وعمل کو قرآن وسنت کی کسوٹی پر رکھ کر دنیا بھر کی مسلم امت کی راہنمائی کی جاسکے۔

                دیکھا جائے تو ان ”مخلصین“ کی فکر و سوچ اخلاص پر مبنی ہے، اور ان کا جذبہ صادق ہے،اور بادی النظر میں ایسا کرنے کی ضرورت بھی ہے، اس لئے کہ ٹی وی اور سی ڈیز کے مادر پدر آزاد پروگرام، لچر وواہیات ڈرامے، ننگی فلمیں اور حیاسوز مناظر اتنا نقصان نہیں پہنچا رہے، جتنا یہ نام نہاد دینی پروگرام مسلمانوں کے عقائد ونظریات کو برباد کررہے ہیں، اس لئے کہ کوئی شخص فلم کو نیکی اورثواب سمجھ کر نہیں دیکھتا، اور نہ ہی اس کے کرداروں کو حق وصواب جان کر اپناتا ہے، بلکہ ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی ان کو قبیح، بُرا اور گناہ سمجھ کر دیکھتا ہے، جب کہ اس کے برعکس ان نام نہاد پروگراموں کو دینی اور مذہبی پروگرام سمجھ کر دیکھا جاتا ہے اور ان کی روشنی میں ہی ناظرین اپنی زندگی کے خطوط متعین کرتے ہیں، اس لئے اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ ٹی وی چینلوں کے نام نہاد دینی پروگرام نئی نسل کے لئے ننگی اور بلیوپرنٹ فلموں سے بھی زیادہ نقصان دہ ہیں۔

                اب سوال یہ ہے کہ اس کا سدباب کیونکر اور کیسے ہو؟ اس سلسلہ میں دو قسم کی آرا پائی جاتی ہیں، ایک طبقہ کاخیال ہے کہ ٹی وی چینل میں ثقہ علماء کو آنا چاہئے اور ٹی وی کے میدان میں اتر کر دشمنانِ دین سے دو بدو مقابلہ کرنا چاہئے یا پھر اپنا الگ ٹی وی چینل قائم کرکے اس کا توڑ کرنا چاہئے، جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا جاچکا ہے۔

                مگر علماء امت کی ایک قابل اعتماد جماعت کو اس سے نہ صرف اختلاف ہے بلکہ شدید ترین اختلاف ہے، ان کا موقف ہے اور بالکل بجا موقف ہے کہ:

                ۱-            ان السیئة لا تدفع بالسیئة․ گناہ کا ازالہ گناہ سے نہیں کیاجاسکتا۔ لہٰذا ٹی وی پر آکر ٹی وی کی خباثتوں کا سدباب کرنا، ایساہی غلط ہے جیسے پیشاب کی غلاظت کو پیشاب سے دھونا یا پیشاب کی ناپاکی کو پیشاب سے پاک کرنا، جیسے یہ غلط ہے ایسے وہ بھی غلط ہے۔

                ۲-           ٹی وی اور سی ڈیز کا کوئی پروگرام تصویر کے بغیر نہیں ہوتا اور تصویر بنانا یا بنوانا مطلقاً ناجائز اور حرام ہے، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے، تصویر خواہ پرانے اور دقیانوسی زمانے کے لوگوں کے ہاتھ کی بنائی ہوئی ہو، یا جدید سائنسی اور ترقی یافتہ دور کی، اس کی حرمت پر پوری امت کا اجماع ہے۔

                ۳-          تصویر سازی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدترین عذاب کی وعید ارشاد فرمائی ہے، اور فرمایا ہے کہ: قیامت کے دن تصویر بنانے والوں سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم نے جاندار کی تصویر بناکر میری ہمسری اوربرابری کی کوشش کی تھی، لہٰذا آج اس تصویر میں روح پھونک کر اوراس کو زندہ کرکے دکھلاؤ، ظاہرہے یہ انسانی اختیار میں نہیں ہوگا تواس کی پاداش میں ان کو سخت ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اس وضاحت کے بعد کیا کوئی عقل مند انسان اس کی اجرأت کرسکتا ہے کہ جان بوجھ کر عذابِ الٰہی کو گلے لگائے؟

                ۴-          چونکہ ٹی وی اور ڈی وی ڈی کی وضع اور ساخت ہی لہو ولعب کے لئے ہے،اس لئے ان کو دینی مقاصد کے لئے استعمال کرنا نہ صرف غلط ہے، بلکہ دین کی توہین و بے حرمتی کے مترادف ہے۔ اس لئے کہ اگر شریعت مطہرہ نے شراب کے مخصوص برتن مثلاً حنتم، دباء، نقیر، مزفت کو پاک کرکے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی؛ بلکہ ان کو توڑنے کا صرف اس لئے حکم فرمایا کہ وہ شراب کی علامت اور ایک حرام مشروب کے لئے مخصوص وموضوع تھے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس کی آمد پر بطور خاص ان برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا، جیسا کہ ارشاد ہے:

                ”ونہاہم عن اربع عن الحنتم والدباء والنقیر والمزفت“ (بخاری، ص:۱۳)

”یعنی آپ نے ان کو شراب کے لئے مخصوص وموضوع چار قسم کے برتنوں: حنتم، دباء، نقیر اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا تھا۔“

                اگر شریعت مطہرہ اور پیغمبر اسلام نے ایک حرام و ناپاک مشروب کے لئے مخصوص برتنوں یا شراب کی علامت شمار ہونے والے ظروف کو استعمال کرنے یا ان سے نفع اٹھانے کی اجازت نہیں دی، تو ٹی وی، ڈی وی ڈی یا اس طرح کی دوسری چیزیں جو لہو ولعب کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال ہی نہیں ہوتیں، ان سے نفع اٹھانے کی کیونکر اجازت ہوگی؟ یا ان کے ذریعہ دعوت و تبلیغ کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے؟

                ۵-           اسی طرح یہ منطق بھی ناقابلِ فہم ہے کہ دوسروں کو گناہ اور گمراہی سے بچانے کے لئے خود اسی گناہ اور گمراہی کی راہ اختیار کرلی جائے، جس سے دوسروں کو منع کیا جارہا تھا، کیا کوئی معمولی عقل وفہم کا انسان یہ گوارا کرسکتا ہے کہ ایک گناہ کو دور کرنے کے لئے دوسرے گناہ کا ارتکاب کیا جائے؟ جب کوئی شخص دوسرے کی زندگی بچانے کے لئے اپنی دنیاوی زندگی داؤ پر نہیں لگاسکتا تو محض اس امکان پر کہ شاید دوسرا راہِ راست پر آجائے، کیا اپنی آخرت کی دائمی زندگی برباد کی جاسکتی ہے؟ یا اس کو داؤ پر لگایا جاسکتا ہے؟ یا کوئی اس کے لئے تیار ہوگا؟ اگرکوئی عقلمند ایسا کرے تو شرعاً، اخلاقاً اس کی گنجائش ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے اوریقینا نفی میں ہے تو علماء کو اس خودکشی کا درس کیوں دیا جاتا ہے؟ اوراگر جواب اثبات میں ہے تو کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک کی چودہ صدیوں سے اس کی کوئی ایک آدھ مثال پیش کی جاسکتی ہے؟ کہ کسی نے دوسرے کی ہدایت کی خواہش پر خود گمراہی اختیار کرلی ہو،اگر ایک لمحہ کے لئے اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو کیا شریعت اس کی اجازت دیتی ہے؟ یا انسان اس کا مکلف ہے؟ نہیں، نہیں، ہرگز نہیں۔

                ۶-           اگر علماء کرام اور مقتدیانِ ملت ٹی وی پر آناشروع کردیں تو سوال یہ ہے کہ پھر عوام کواس آلہ لہوولعب کی تباہ کاریوں سے کیسے بچایاجاسکے گا؟ بلکہ اس وقت تو معاملہ اور بھی مشکل اور سنگین ہوجائے گا، جب علماء کرام خود ٹی وی کی اسکرین پر تشریف فرماہوں گے اور دوسروں کو اس کے دیکھنے اوراستعمال کرنے سے منع فرمارہے ہوں گے، کیا اس وقت ان کا روکنا ممکن ہوگا؟ یا ان کی تلقین موٴثر ہوگی؟

                اسی طرح دنیا بھر میں امت مسلمہ کی ایک قابل قدرجماعت آج تک اس کے استعمال کو ناجائز اور نئی نسل کے لئے مہلک و سم قاتل سمجھتی آئی ہے، کیا اس اجازت یا نرمی سے وہ متاثر نہیں ہوگی؟ کیا ان گھروں میں جدید تہذیب یا بے دینی کے داخلہ کے ذمہ دار وہ علماء نہیں ہوں گے جو ٹی وی کے جواز کے لئے کوشاں ہیں؟

                ۷-          بالفرض اگر علماء کرام عوام کو اس سے روکنا بھی چاہیں، تو کیا عوام کو یہ کہنے کا حق نہیں ہوگا کہ جس طرح آپ دینی پروگراموں کے لئے ٹی وی پر تشریف لاتے ہیں․․․ اوریہ جائز ہے تو ․․․ اگر ہم نے محض دینی پروگرام دیکھنے کی غرض سے ٹی وی خریدا ہے،اور اس غرض سے ٹی وی دیکھتے ہیں، تو یہ کیونکر ناجائز ہے؟ بتلایاجائے اس کا کیا جواب ہوگا؟

                اگر بالفرض علماء کرام جائز پروگرام دیکھنے کے لئے ٹی وی کو جائز قرار دے دیں اور ٹی وی گھروں میں گھس جائے تو پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ اس پر لچر،واہیات، فحش اورایمان سوز پروگرام نہیں دیکھے جائیں گے؟ یا اس پر دنیاجہاں کی ننگی فلمیں نہیں دیکھی جائیں گی؟ کیا اس سے گناہ اور بدکاری کی راہ نہ کھل جائے گی؟ کیا گھر میں ٹی وی آجانے کے بعد جائز وناجائز کی تحقیق ثانوی درجہ میں نہیں چلی جائے گی؟

                ۸-          اگر علماء کرام ٹی وی پروگراموں میں آنا شروع کردیں اور ٹی وی مباحثوں میں شریک بھی ہونا شروع کردیں تواس کی کیا ضمانت ہے؟ کہ یہود وہنود کی اولاد، علماء کے افکار و ارشادات کو ہوبہو ٹی وی میں نقل بھی کردیں؟

                جب کہ صورت حال یہ ہے کہ بارہاایساہوا ہے کہ جب کسی عالم دین نے حقائق کا اظہار کرنا شروع کیا تو نہ صرف اس کو بولنے کا موقع نہیں دیاگیا؛ بلکہ اس کی جوبات ٹی وی اور بین الاقوامی قوتوں کے ذوق ومزاج کے خلاف تھی، اسے سنسر کردیاگیا۔ چنانچہ طالبان حکومت کے موقع پر حضرت مولانا مفتی نظام الدی شامزی شہید اسی قسم کے ایک مکالمہ میں شریک ہوئے، تو انھوں نے خود بتلایا کہ مذاکرے کا میزبان پہلے تو مجھے بولنے نہ دے رہا تھا، جب میں نے بولنا شروع کیا تواس نے بارہا میری بات کاٹنے کی کوشش کی، لیکن جب میں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا تو اگرچہ اس نے مداخلت تو بند کردی، لیکن میرے انٹرویو کے وہ حصے جو حکومت اور بین الاقوامی قوتوں کے ذوق ومزاج کے خلاف تھے، حذف کردئیے گئے، چنانچہ حضرت مفتی صاحب مرحوم نے خود فرمایا کہ: ”میں نے سوچا تھا کہ شاید اس طرح عوام کے سامنے حقائق آجائیں گے․․․ اور اسی لئے میں شریک بھی ہواتھا․․․ مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ میری سوچ صحیح نہیں تھی اورایسے پروگراموں میں شریک ہونا درست نہیں؛ کیوں کہ ان مذاکروں کا مقصد حقائق کی نشاندہی نہیں؛ بلکہ حقائق کومسخ کرنا ہوتا ہے۔“

                ۹-           دنیا جانتی ہے کہ ٹیوی اور سی ڈیز کا مقصد اصلاح نہیں، بگاڑ ہے، بلکہ دیکھاجائے تو ٹی وی اورڈی وی ڈی کا مقصد مغربی تہذیب وتمدن اور لادین کلچر کا فروغ ہے، ظاہر ہے جس پروگرام میں دین وشریعت اوراسلامی تہذیب وتمدن کی صحیح صحیح نشاندہی کی جائے گی، اسے یہودی لابی اور ان کے ایجنٹ کیونکر برداشت کرسکیں گے؟

                ۱۰-اگر بالفرض مسلمان اپنا ٹی وی چینل ایجاد کرلیں تو سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جانداروں کی تصویر کے ہوتے ہوئے وہ کیونکر جائز ہوجائیگا؟ اور تصویر کے بارہ میں حکم شرعی پہلے آچکاہے۔

                چلو اگر ایک منٹ کے لئے تصویر کوبرداشت بھی کرلیاجائے تو کیا عام ناظرین ایسے ٹی وی چینل کو دیکھنا پسند کردیں گے؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو بتلایا جائے کہ محراب و منبر کی آواز پر کان کیوں نہیں دھرے جاتے؟ حالانکہ محراب ومنبر سے بھی یہی بات کہی جاتی ہے، آپ ہی بتلائیے کہ جو بات محراب و منبر سے کہنے پر نہیں سنی جاتی وہ ٹی وی سے کیوں سنی جائے گی؟ دراصل لوگ ٹی وی دیکھتے ہی صرف اس لئے ہیں کہ ٹی وی اسکرین پراور ”بہت کچھ دیکھنے کو ملتا ہے“ جومحراب و منبر سے نہیں دیکھاجاسکتا، لہٰذا ایساٹی وی جس میں عوام کی مطلوبہ رنگینی نہیں ہوگی اس کو کوئی بھی نہیں دیکھے گا۔

                عوام کی اس رنگین مزاجی پر میراثی کا وہ لطیفہ بالکل فٹ بیٹھتا ہے، جس میں اس نے اہلِ جنت وجہنم کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے سامعین کو مخاطب کرکے کہا:

”ارے سنتے ہو! ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ میں مرگیا ہوں،مجھے دفن کردیاگیا، میرا حساب و کتاب ہوا تو فرشتوں نے کہا: تیرے گناہ اورنیکیاں برابر ہیں، جہاں چاہے، تجھے بھیج دیتے ہیں، میں نے مولویوں سے سن رکھا تھا کہ جنت بہت اچھی جگہ ہے،اس لئے میں نے کہا: مجھے جنت بھیج دو، جب مجھے جنت لے جایا گیا تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا، وہاں کوئی رونق تھی نہ راگ و رنگ تھا اورنہ تفریح طبع کا دوسرا سامان، پس مسجد کے میاں جی، چند داڑھیوں والے جن کے ہاتھ میں لوٹے اورمصلّے تھے، یا پھر علاقے کے غریب غربا اور بس۔

                میں نے فرشتوں سے کہا: اس سے کوئی اچھی جگہ بھی ہے؟ انھوں نے کہا اس سے اچھی جگہ تو کوئی نہیں، البتہ اگر چاہوتو تمہیں جہنم دکھاسکتے ہیں، میں نے کہا ضرور! چنانچہ جب مجھے جہنم لے جایا گیا تو کیا دیکھتا ہوں: اپنے گاؤں کے چودھری صاحب، ملک صاحب، خان صاحب علاقہ کے سارے نامی گرامی لوگ موجود تھے، وہاں کچھ گلوکارائیں گانا گارہی تھیں اورکچھ اداکارائیں ناچ بھی رہی تھیں، محفل جمی ہوئی تھی، چلم بھری تھی اور سارے روشن خیال اور ترقی پسند دوست و احباب جمع تھے، وہاں جاکر تو مزہ ہی آگیا۔“

                اگرچہ یہ ایک لطیفہ ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو عوام آج کل اس رنگینی کی تلاش میں ہیں چاہے اس کے لئے ان کو جہنم ہی کیوں نہ جانا پڑے اور ان کو سادگی اور خالص دین و شریعت کے پروگرام ناقابل قبول ہیں، چاہے اس کے عوض جنت ہی کیوں نہ ملتی ہو۔

                چلو اس کو بھی مان لیاجائے کہ لوگ ”خالص دینی اور شرعی ٹی وی“ کو دیکھیں گے تو سوال یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ اور بین الاقوامی لابیاں اس چینل کو چلنے بھی دیں گی؟ نہیں ہرگز نہیں، چنانچہ ”الجزیرہ“ ٹی وی کی نشریات کاجام کیا جانا سب کے سامنے ہے، اس کے علاوہ کیا وہ ٹی وی چینل پوری دنیا کے ٹی وی قوانین کی مخالفت مول لے کر اپنا کام جاری رکھ سکے گا؟ نہیں، نہیں، ہرگز نہیں، چنانچہ اس کے لئے افغانستان کی طالبان حکومت بطور مثال کافی ہے کہ امریکا بہادر اور اس کے اتحادیوں نے اس کی اینٹ سے اینٹ صرف اور صرف اس لئے بجائی ہے کہ وہ بین الاقوامی کافرانہ نظام کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں تھی، ٹھیک اسی طرح ایسی ٹی وی چینل کا بھی حشر ہوگا۔

                ۱۱-          رہی یہ بات کہ اربابِ کفر والحاد نے اگر ٹی وی کو اسلام کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ہے تو کیوں نہ ہم بھی اس کو اشاعت اسلام کے لئے استعمال کریں؟ نظر بظاہر یہ جذبہ نیک ہے، مگر اس میں مشکل وہی پیش آتی ہے کہ اشاعت اسلام کے لئے کسی ناجائز اور حرام ذریعہ کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔

                اگر اشاعت اسلام کے لئے ناجائز ذرائع کے اپنانے کی اجازت ہوتی تو چوروں کی اصلاح کے لئے چوروں اور زانیوں کی اصلاح کے لئے زانیوں کے گروہ میں شامل ہونا بلکہ کافروں کی اصلاح کے لئے کافروں کے گروہ میں شامل ہونا بھی جائز ہوتا، مگر دنیا جانتی ہے کہ دنیا کاکوئی مہذب قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

                اس کے علاوہ اگر بالفرض اشاعت اسلام کے لئے کسی منکر،ناجائز اورحرام کو اپنانے کی اجازت بھی دے دی جائے تو کیاآئندہ کے لئے نہی عن المنکر کا دروازہ بند نہیں ہوجائے گا؟ اس لئے کہ ہر مجرم اپنے جرم کی یہی تاویل اور جواز پیش کرے گا کہ میں نے یہ سب کچھ اسلام کی اشاعت کے لئے کیا ہے، چنانچہ جہاں کہیں کوئی چور، ڈاکو، زانی، شرابی یا قاتل رنگے ہاتھوں پکڑا جائے گا، وہ یہ کہہ کر چھوٹ جائے گا کہ میں چور، زانی، ڈاکو، شرابی اور قاتل نہیں ہوں، بلکہ میں نے تو ان لوگوں کی اصلاح کے لئے یہ شکل اختیار کررکھی ہے، بتلایاجائے اس سے سارا معاشرہ جرائم اور گناہوں کی آماجگاہ نہیں بن جائے گا؟

                ۱۲-         اشاعت اسلام کے لئے ہم اس کے تو مکلف ہیں کہ جتنا حلال وجائز اسباب و ذرائع مہیا ہوں ان کو ممکنہ حد تک استعمال کریں اور کفر و باطل کی راہ روکنے کی کوشش کریں، لیکن اس کا یہ معنی بھی نہیں کہ ہم خواہ مخواہ نت نئے انداز اور جائز وناجائز حربے استعمال کرنے کی سعی وکوشش میں ہلکان ہوا کریں۔

                اگر اس کی ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دیتے اور وہ تمام اسباب و ذرائع جو کفر و شرک کی اشاعت میں استعمال ہوتے ہیں، ان کی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اجازت ہوتی، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

                چنانچہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اغوائے انسانی کے لئے اولاد آدم کے قلوب میں وساوس ڈالنے، دور بیٹھ کر ان پر تسلط حاصل کرنے کا اختیار دیا ہے، مگر نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار نہیں دیا گیا، اسی طرح حدیث نبوی کے مطابق: شیطان انسان کے بدن میں ایسے دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانی خون میں دوڑنے کی اجازت تھی؟ نہیں، ہرگز نہیں۔

                ایسے ہی شیطان انسانی قلوب واذہان کی اسکرین پر اپنے وساوس کے ذریعے گناہوں اور بدکاریوں کی ننگی اور بلیو پرنٹ فلم دکھاکر ان کوگناہوں اور بدکاریوں پر آمادہ کرتا ہے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انسانی قلوب و اذہان پر تسلط نہیں دیاگیا بلکہ فرمایا گیا: ”ان انت الا نذیر“ (فاطر:۲۳) ”آپ تو صرف ڈرسنانے والے ہیں“ اسی طرح دوسری جگہ فرمایا: ”لست علیہم بمصیطر“ (غاشیہ:۲۲) ”یعنی آپ ان کے نگراں نہیں ہیں کہ نہ مانیں تو آپ سے پوچھ ہوگی“۔

                اگر اس کی اجازت یا ضرورت ہوتی جس قدر شیطان کو کفر وشرک کی اشاعت کے لئے یہ قوت و استعداد دی گئی تھی،اس سے زیادہ ضروری تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اشاعت اسلام کے لئے ان چیزوں سے نوازا جاتا، مگر جب اللہ تعالیٰ نے اس کی ضرورت نہیں سمجھی تو کیا نعوذ باللہ! ہم اللہ تعالیٰ سے زیادہ اشاعت اسلام کے خواہاں اور انسانوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے فکرمند ہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں، تو ہمیں شرعی حدود سے نکل کر اشاعت اسلام کے لئے زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔

                ۱۳-         اسی طرح ٹی وی کے جواز اور ضرورت کیلئے یہ استدلال بھی کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا کہ اگر ہم نے ٹی وی پر آکر مسلمانوں کی راہنمائی نہ کی تو لادین قوتیں اس کو دین کے بگاڑنے کیلئے استعمال کریں گی؟ اوراسلام کا حلیہ بگڑجائیگا اوراسلام اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں رہے گا۔

                اس لئے کہ سنت اللہ یہی چلی آئی ہے کہ بے شک اسلام کو ڈھانے اور مٹانے کی کوششیں تو ضرور ہوں گی اور ہوتی بھی آئی ہیں، مگر اسلام ختم ہوجائے یااس میں تحریف ہوجائے یا اس کا حلیہ بگڑ جائے یا اسلام اپنی اصلی حالت میں نہ رہے، ایسا ناممکن ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ: ”مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی رہے گی جو اسلام کو اصلی حالت پر برقرار رکھنے میں محنت و کوشش کرتی رہے گی، اوراہل ہوا و بدعت کی اڑائی دھول کو صاف کرتی رہے گی اور ان پر کسی مخالفت گر کی مخالفت کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔“

                چنانچہ سوا چودہ سو سال ہوگئے ہیں، الحمدللہ! آج بھی اسلام اسی طرح تروتازہ ہے۔ حتی کہ شیطان کے انسانی قلوب پر تسلط حاصل ہونے کے باوجود اگر آج تک اسلام محفوظ ہے تو آئندہ بھی انشاء اللہ محفوظ ہی رہے گا، اور آئندہ بھی اس کو تحریف سے بچایاجائے گا۔

                ۱۴-         ٹی وی اور ویڈیو فلم سے تبلیغ کا کام لینا یوں بھی ناقابل فہم ہے کہ ٹی وی دیکھنے والے کسی نیک جذبے اوراصلاح کی غرض سے یہ پروگرام نہیں دیکھتے بلکہ تفریح طبع کے لئے یہ پروگرام دیکھے جاتے ہیں، اس لئے کہ دنیا جانتی ہے کہ ٹی وی پر آنے والے لوگ قابل اعتماد اور ثقہ نہیں بلکہ بازاری اور شہرت کے خواہاں ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج تک نہیں سناگیا کہ کسی نے ٹی وی کی ”برکت“ سے اسلام قبول کیا ہو، اس سلسلہ میں حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کا ایک جواب پڑھئے اور سردھنئے!

”یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ویڈیو فلم اور ٹی وی سے تبلیغ اسلام کا کام لیاجاتا ہے، ہمارے یہاں ٹی وی پر دینی پروگرام بھی آتے ہیں لیکن کیا میں بڑے ادب سے پوچھ سکتا ہوں کہ ان دینی پروگراموں کو دیکھ کر کتنے غیرمسلم دائرئہ اسلام میں داخل ہوگئے؟ کتنے بے نمازیوں نے نماز شروع کردی؟ کتنے گناہ گاروں نے گناہوں سے توبہ کرلی؟ لہٰذا یہ محض دھوکا ہے، فواحش کا یہ آلہ جو سرتاپا سر نجس العین ہے اور ملعون ہے اور جس کے بنانے والے دنیا وآخرت میں ملعون ہیں وہ تبلیغ اسلام میں کیا کام دے گا؟ بلکہ ٹی وی کے یہ دینی پروگرام گمراہی پھیلانے کا ایک مستقل ذریعہ ہیں، شیعہ، مرزائی، ملحد، کمیونسٹ اور ناپختہ علم لوگ ان دینی پروگراموں کے لئے ٹی وی پر جاتے ہیں اور اناپ شناپ جو ان کے منہ میں آتا ہے کہتے ہیں، کوئی ان پر پابندی لگانے والا نہیں اور کوئی صحیح وغلط کے درمیان تمیز کرنے والا نہیں، اب فرمایا جائے کہ یہ اسلام کی تبلیغ واشاعت ہورہی ہے یا اسلام کے حسین چہرے کو مسخ کیا جارہا ہے؟؟ رہا یہ سوال کہ فلاں یہ کہتے ہیں اوریہ کرتے ہیں، یہ ہمارے لئے جواز کی دلیل نہیں۔“ (آپ کے مسائل اور ان کا حل،ج:۷،ص:۳۹۸)

                ۱۵-         علماء کو ٹی وی پر آنے کے مشورہ کو اس زاویہ سے بھی دیکھنا چاہئے کہ خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کی اصلاح کی فکر میں ٹی وی پر آنے والے حضرات خود ہی بے وزن ہوجائیں، اس لئے عین ممکن ہے کہ یہ بھی ایک شیطانی چال ہو کہ جو حضرات ٹی وی پر آنا شروع کریں گے کم از کم وہ متفق علیہ تو نہیں رہیں گے، خصوصاً جو حضرات ٹی وی کی حرمت کے قائل ہیں، ان کے ہاں ایسے حضرات کے کسی قول، فعل اور عمل بلکہ فتویٰ کا کوئی اعتبار نہیں رہے گا، گویا دوسروں کی اصلاح ہو یا نہ ہو، کم از کم یہ تو متنازعہ بن جائیں، اور کیونکہ ہادیانِ قوم ووطن کا متنازعہ بن جانا، شیطان اوراس کے پجاریوں کے لئے بہت بڑی فتح ہے۔ اس لئے کہ باطل پرستوں کی کبھی یہ خواہش نہیں رہی کہ مسلمان، کافر یا مشرک بن جائے، بلکہ ان کی خواہش اور کوشش یہ رہی ہے کہ مسلمان، مسلمان نہ رہے، یا کم از کم قابل اعتماد نہ رہے، اگرایسا ہو تو سوچنا چاہئے کہ ٹی وی پر آنے والے اوراس کے جواز کے قائل علماء جب ٹی وی پر آئیں گے تو وہ اپنے موقف کی حقانیت وصداقت اور مخالفین کی تغلیط فرمائیں گے، ٹھیک اسی طرح جو حضرات مخالف ہوں گے، وہ بھی اپنے موقف کو دلائل و شواہد سے مبرہن کریں گے، اور اپنے مخالفین کے موقف کی تغلیط کریں گے․․․ جو ان کا فطری اورمنطقی حق ہے․․․ یوں اختلافات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا،اور اہل حق کے آپس میں دست و گریبان ہوتے ہی اسلام دشمنوں کا مقصد پوراہوجائے گا، کیونکہ وہ دراصل مسلم امہ اور علماء کے اتفاق و اتحاد سے ہی سب سے زیادہ خائف اورالرجک ہیں۔

                ۱۶-         ٹی وی پر وعظ و بیان اور تقریر ومکالمہ کی ضرورت پر زور دینے والوں کو اس اندازسے بھی سوچنا چاہئے کہ جس اسٹیج اور جس جگہ پر عصیان و طغیان پر مبنی حیاء سوز اورایمان کش فلمیں، لچر واہیات پروگرام اور گانے گائے جاتے ہوں اور وہاں ”خدا کے لئے“ جیسی خالص کافرانہ اور ملحدانہ فلمیں اور ڈرامے دکھائے جاتے ہوں، وہاں اللہ کا پاک، پاکیزہ کلام، احادیث مبارکہ اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی لیکچروں کا سنانا اور دکھانا جائز بھی ہوگا؟ کہیں یہ قرآن و سنت اور دین و شریعت کی توہین و تنقیص یا سوء ادبی تو نہیں ہوگی؟

                کیونکہ سیّد ابراہیم الدسوقی رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ:

”اپنے منہ کو تلاوت قرآن مجید کے لئے پاک و صاف رکھا کرو، کیونکہ جو شخص منہ کو حرام بات یا حرام کھانے سے آلودہ کرکے بغیر توبہ کے قرآن مجید پڑھنے لگے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی قرآن کو ناپاکی پر رکھے، ایسے آدمی کو جو حکم ہونا چاہئے وہ سب کو معلوم ہے، بعض اولیاء اپنے مشاہدے میں اس کو باطنی گندگیوں سے زیادہ پلید دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔“ (معارف بہلوی ص:۴۱،ج:۴)

                نیز اس پر بھی غور فرمایاجائے کہ گندی اورناپاک جگہ اور غلاظت خانہ یا باتھ روم میں اللہ کا ذکر کرنا اگر ممنوع ہے تو ٹی وی ایسے غلاظت کدہ میں کیا اس کی اجازت ہوگی؟

واللّٰہ یقول الحق وہو یہدی السبیل

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین

$ $ $

---------------------------------

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 2‏، جلد: 92 ‏، صفرالمظفر 1429 ہجری مطابق فروری 2008ء